بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی آبنا || نامور امریکی صحافی، بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور سی این این کے پروگرام "جی پی ایس" کے میزبان، فرید زکریا، واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے ایک مضمون میں استدلال کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مبینہ فوجی کامیابیوں کو اس ملک کی فتح کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔/ مانتے ہیں کہ واشنگٹن نے ایران کو نقصان پہنچایا لیکن نہ تو اس ملک کی حکومت کو گرانے میں کامیابی حاصل کی اور نہ ہی خود جنگ کے معاشی اور فوجی اخراجات سے محفوظ رہا۔ / امریکہ اب آبنائے ہرمز کے حالات کو جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز امریکی حملوں سے سے پہلے کھلا تھا۔
فرید زکریا لکھتے ہیں:
1۔ امریکہ جنگ سے پہلے کے حالات واپس لانے کے لیے لڑ رہا ہے
• کچھ لوگ امریکہ کی فتح کی بات کرتے ہیں لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ ایک ایسے راستے (آبنائے ہرمز) کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے جو جنگ شروع ہونے سے پہلے کھلا تھا اور ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اسے بند کر دیا تھا، اور واشنگٹن اب اپنی فوجی طاقت کا بڑا حصہ تہران کو اس آبی گذرگاہ کھولنے پر مجبور کرنے میں صرف کر رہا ہے۔ اس نقطہ نظر سے، جب ہم پہلے والے حالات کی طرف واپسی کو فتح کہتے ہیں تو اس تک پہنچنے کے لئے ادا کی گئی قیمت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔
2۔ جنگ کا بنیادی مقصد ایران کی حکومت کی تبدیلی تھا
• جنگ کے نتیجے کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں ان اہداف پر توجہ دینی چاہئے جو امریکہ اور اسرائیل مختلف مراحل میں حاصل کرنا چاہتے تھے۔
• جون 2025 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے لیکن، فروری 2026 میں جنگ مزید وسیع اہداف کے ساتھ ـ جن میں ایران کے جوہری پروگرام کی تباہی بھی شامل ہے ـ دوبارہ شروع ہوئی۔
• اس بار ایران کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور اسلامی جمہوریہ کے رہبر اور کئی اعلیٰ حکام کو قتل کر دیا گیا۔
• ٹرمپ نے بھی کھلے عام ایرانیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔
• جنگ کے اس مرحلے کا بنیادی مقصد ایران کی حکومت کی تبدیلی تھا؛ لیکن یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ اسلامی جمہوریہ قائم رہی، اس کی افواج متحد کمانڈروں کے گرد جمع ہو گئیں اور ایک نیا رہبر برسرِ اقتدار آیا۔
• اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کے ہتھیار کا استعمال کیا؛ یعنی اس نے اسٹراٹیجک آبی گذرگاہ کو بند کر دیا جس سے دنیا کی تقریباً ایک پانچواں حصہ تیل گذرتا تھا۔
• یہی پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ کسی ملک کو فوجی نقصان پہنچانا لازماً جنگ کے سیاسی اہداف کی تکمیل کا باعث نہیں بنتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ